اداریہ:

حکومت پاکستان توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے ہنگامی بنیادوں

پر شمسی توانائی جیسے سستے ذرائع کے استعمال پر سرمایہ کاری کرے

بجلی کی لوڈشیڈنگ اب تومحنت کش عوام کی زندگیوں کا مستقل حصہ بن گئی ہے۔ اس لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بیروزگاری کی صورت محنت کشوں کیلئے روح اور جسم کا تعلق برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔تاہم پورے پاکستان میں عوام خصوصاً محنت کش شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے دوچار سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تقریباً 14-18 گھنٹے تک کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔جس سے ایک طرف صنعتیں تباہ ہورہی ہیں تو دوسری طرف محنت کشوں کی بڑی تعداد تیزی سے بے روزگار ہورہی ہے۔      مزید پڑھئے

 

حکومت پاکستان توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے ہنگامی بنیادوں

پر شمسی توانائی جیسے سستے ذرائع کے استعمال پر سرمایہ کاری کرے

بجلی کی لوڈشیڈنگ اب تومحنت کش عوام کی زندگیوں کا مستقل حصہ بن گئی ہے۔ اس لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بیروزگاری کی صورت محنت کشوں کیلئے روح اور جسم کا تعلق برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔تاہم پورے پاکستان میں عوام خصوصاً محنت کش شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے دوچار سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تقریباً 14-18 گھنٹے تک کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔جس سے ایک طرف صنعتیں تباہ ہورہی ہیں تو دوسری طرف محنت کشوں کی بڑی تعداد تیزی سے بے روزگار ہورہی ہے۔       مزید پڑھئے

 

 

حکومت پاکستان توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے ہنگامی بنیادوں

پر شمسی توانائی جیسے سستے ذرائع کے استعمال پر سرمایہ کاری کرے

بجلی کی لوڈشیڈنگ اب تومحنت کش عوام کی زندگیوں کا مستقل حصہ بن گئی ہے۔ اس لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بیروزگاری کی صورت محنت کشوں کیلئے روح اور جسم کا تعلق برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔تاہم پورے پاکستان میں عوام خصوصاً محنت کش شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے دوچار سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تقریباً 14-18 گھنٹے تک کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔جس سے ایک طرف صنعتیں تباہ ہورہی ہیں تو دوسری طرف محنت کشوں کی بڑی تعداد تیزی سے بے روزگار ہورہی ہے۔       مزید پڑھئے

حکومت پاکستان توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے ہنگامی بنیادوں

پر شمسی توانائی جیسے سستے ذرائع کے استعمال پر سرمایہ کاری کرے

بجلی کی لوڈشیڈنگ اب تومحنت کش عوام کی زندگیوں کا مستقل حصہ بن گئی ہے۔ اس لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بیروزگاری کی صورت محنت کشوں کیلئے روح اور جسم کا تعلق برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔تاہم پورے پاکستان میں عوام خصوصاً محنت کش شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے دوچار سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تقریباً 14-18 گھنٹے تک کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔جس سے ایک طرف صنعتیں تباہ ہورہی ہیں تو دوسری طرف محنت کشوں کی بڑی تعداد تیزی سے بے روزگار ہورہی ہے۔       مزید پڑھئے